زیب داستاں

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - مبالغہ آرائی جو بات کو دل چسپ بنانے کے لیے کی جائے، واقعہ کی دل پذیری، کہانی کی زینت۔ "ایران علاقائی تعاون کے ادارے میں پاکستان اور ترکی کا شریک رکن ہے لیکن یہ تعاون اب صرف زیب داستان بن گیا ہے۔"      ( ١٩٨٠ء، ماہ و روز، ٣٥ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم 'زیب' کے آخر پر کسرۂ اضافت لگا کر'داستاں' لگانے سے مرکب اضافی 'زیب داستاں' بنا۔ اس ترکیب میں زیب 'مضاف' ہے اور داستاں مضاف الیہ۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٥٥ء کو "کلیات شیفتہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مبالغہ آرائی جو بات کو دل چسپ بنانے کے لیے کی جائے، واقعہ کی دل پذیری، کہانی کی زینت۔ "ایران علاقائی تعاون کے ادارے میں پاکستان اور ترکی کا شریک رکن ہے لیکن یہ تعاون اب صرف زیب داستان بن گیا ہے۔"      ( ١٩٨٠ء، ماہ و روز، ٣٥ )

جنس: مؤنث